جانِ جہاں

رحمت کی رواں آنکھوں پہر خوئے نبی ﷺ ہے

جس پر ہے نظر کیسے کی، ابروئے نبی ﷺ ہے

عنبر ہے جہاں بھی وہ اُنہی کے ہے تصدّق

آفاق میں پھیلی ہوئی خوشبوئے نبی ﷺ ہے

حوریں ہیں کھڑی ہاتھوں میں گلدستے اُٹھائے

ہر وقت فرشتوں سے بھرا کوئے نبی ﷺ ہے

خو اہلِ مدینہ کی بہت آج بھی شیریں

صد شُکرِ خُدا، یہ اثرِ خوئے نبی ﷺ ہے

یہ ارض و سما جس سے ضِیا بار ہوئے ہیں

وہ چشمۂ اَنوار فقَط روئے نبی ﷺ ہے

ذرّے مِرے آقا ﷺ کے بھی لیتے ہیں خیرات

سُلطاں بھی دریوزہ گر کوئے نبی ﷺ ہے

ساجدؔ میرا معبود ہے خلّاقِ دو عالَم

کعبہ ہے مِرے سامنے دِل سوئے نبی ﷺ ہے