← شوقِ فراواں
تختِ الثریٰ سے عرش تک اَنوارِ مصطفیٰ
مُختار دیں جہاں میں ہے سرکارِ مصطفیٰ
دیکھیں بیک نظر وہ بیک وقت پیش و پس
سویا بھی نہیں دِلِ بیدارِ مصطفیٰ
خالص ہے جس دین کی کچھ شائبہ نہیں
ہر لحظہ پر بھجوم⚠️ ہے بازارِ مصطفیٰ
نِسبت سے اُن کی خاک کا اِک حد خُلد ہے
محبوبِ خَلق میں ہے طلبگارِ مصطفیٰ
سبز خُدا ہے ذاتِ رسُولِ کریم کی
مقبولِ حق ہے واقفِ آسرارِ مصطفیٰ
عظمت علی سے بھی اُنہی کے سب ملی
پہنچا بلندیوں پہ ہے رفتارِ مصطفیٰ
ساجدؔ نبی کا شہر بنے دِل کائنات کا
سارے جہاں کا حُسن ہے گُلزارِ مصطفیٰ