شوقِ فراواں

بسکہ عالی مَقامِ احمد کا

ہے سرِ عرش نامِ احمد کا

حرفِ حق ہے پَیامِ احمد کا

وہی باری کلامِ احمد کا

عمر بھر غم وہ بیخودی میں رہا

پی لیا جس نے جامِ احمد کا

در ہے فِردَوس کا نبی کا در

طلوعِ⚠️ موتی ہے بامِ احمد کا

ضامنِ صد فروغِ انسانی

وہ فقَط ہے نظامِ احمد کا

اے خُدا! ذِکر دائمی ہو نصیب

تذکرہ صبح و شامِ احمد کا

وَصلِ حق چاہتے اگر ساجدؔ

دامَنِ پاک تھامِ⚠️ احمد کا