شوقِ فراواں
1

بسکہ عالی مَقامِ احمد کا

ہے سرِ عرش نامِ احمد کا

2

حرفِ حق ہے پَیامِ احمد کا

وہی باری کلامِ احمد کا

3

عمر بھر غم وہ بیخودی میں رہا

پی لیا جس نے جامِ احمد کا

4

در ہے فِردَوس کا نبی کا در

طلوعِ⚠️ موتی ہے بامِ احمد کا

5

ضامنِ صد فروغِ انسانی

وہ فقَط ہے نِظامِ احمد کا

6

اے خُدا! ذِکر دائمی ہو نصیب

تذکرہ صبح و شامِ احمد کا

7

وَصلِ حق چاہتے اگر ساؔجِد

دامَنِ پاک تھامِ⚠️ احمد کا