ذوقِ جمال
1

محبوبِ حق نے حق سے بندے ملا دیے ہیں

صَحرا میں رحمتوں کے دریا بہا دیے ہیں

2

اللہ کے نبیؐ نے جھگڑے مٹا دیے ہیں

حائل تھے سنگ چتے رو سے بنا دیے ہیں

3

پردے جو درمیاں تھے سارے اُٹھا دیے ہیں

آسرارِ مصطفٰؐے نے کُھل کر بتا دیے ہیں

4

دستِ کرم نے کھولے دریچِ معرفت کے

تاریک جو دیے تھے سارے جَلا دیے ہیں

5

وحشت بھرے مناظر گُلزار بن کے مِلے

ویرانے پھر سے سُننے کیا کیا بسا دیے ہیں

6

ہموار کر دیے ہیں زیر و زبرؐ نبیؐ نے

نخوت کے جوشناں تھے سارے مٹا دیے ہیں

7

شاہِ رُسُلؐ کے احساں ہیں بے شُمار ساؔجِد

بنجر زمیں میں کیا کیا گُلشن کِھلا دیے ہیں