ذوقِ جمال

محبوبِ حق نے حق سے بندے ملا دیے ہیں

صَحرا میں رحمتوں کے دریا بہا دیے ہیں

اللہ کے نبیؐ نے جھگڑے مٹا دیے ہیں

حائل تھے سنگ چتے رو سے بنا دیے ہیں

پردے جو درمیاں تھے سارے اُٹھا دیے ہیں

آسرارِ مصطفیؐ نے کُھل کر بتا دیے ہیں

دستِ کرم نے کھولے دریچِ معرفت کے

تاریک جو دیے تھے سارے جَلا دیے ہیں

وحشت بھرے مناظر گُلزار بن کے مِلے

ویرانے پھر سے سُننے کیا کیا بسا دیے ہیں

ہموار کر دیے ہیں زیر و زبرؐ نبیؐ نے

نخوت کے جوشناں تھے سارے مٹا دیے ہیں

شاہِ رُسُلؐ کے احساں ہیں بے شُمار ساجدؔ

بنجر زمیں میں کیا کیا گُلشن کِھلا دیے ہیں