← حرفِ نیاز
1
علیؓ کا سینہ ہے جلوہ گہِ نبیؐ ساؔجِد
ہے مُشک بار ہَوا چار سُو مدینے کی
2
ہر ایک بزم میں ہے گفتگو مدینے کی
رواں ہے سیلِ تمنّا مِری رگ و پے میں
3
بسی ہے دِل میں مِرے آرزو مدینے کی
ہے شہر شہر مدینے کے حُسن کا چرچا
4
ضِیا ہے پھیلی ہوئی کُو بکُو مدینے کی
جمی ہوئی ہے مدینے پہ قُدسیوں کی نظر
5
ہے جلوہ گاہِ نبیؐ آبرو مدینے کی
غزالِ دشت میں طائرِ چَمن میں آوارہ
6
ہر اِک گھڑی ہے انہیں جُستجو مدینے کی
7
علیؓ کا سینہ ہے جلوہ گہِ نبیؐ ساؔجِد نجف سے بھی مجھے آتی ہے بو مدینے کی