حرفِ نیاز

ہیں عرش و فرش پہ اُن کے جمال کی باتیں

وفا و مہر کی بجود و نوال کی باتیں

نبیؐ کی دید تھی سامانِ زِندگی جس کا

سنی ہیں تم نے بھی شوقِ بلالؓ کی باتیں

ہیں مہر و ماہ کے لب پر کہانیاں اُن کی

جلال کے وہ فسانے جمال کی باتیں

وہ بے مِثال ہیں ہر بات بے مِثال اُن کی

کہاں سے لاؤں میں اُن کی مِثال کی باتیں

ہے قُدسیوں کی زُباں پر نبیؐ کا ذِکرِ جمیل

مِرا وظیفۂ جاں اُن کی آل کی باتیں

بڑا حرا ہے محمدؐؐ کی نعت میں ساجدؔ

خُدا نصیب کرے کیف و حال کی باتیں