حرفِ نیاز
1

یاد کی مستیاں رگِ جاں ہیں

دھڑکنیں دِل کی زمزمہ خواں ہیں

2

طے ہوئی تھی یہ بات روزِ اَزَل

آج کے کب یہ عہد و پیماں ہیں

3

وہ مِرے روز و شب کے محور ہیں

وہ مِری زِندگی کے عنواں ہیں

4

نامِ پاک اُن کا حرزِ جاں ہے مِرا

ہر گھڑی وہ مِرے نِگہباں ہیں

5

یہ نَوازِش ہے چشمِ رحمت کی

سخت راہیں بھی آج آساں ہیں

6

رونقِ بزمِ کائنات وہ ہیں

عالَمِ شش جہت کی وہ جاں ہیں

7

واصِلِ ذات ہیں وہ مظہرِ کُل

وہ عدیم المثال انساں ہیں

8

ساؔجِد بے ہُنر کا کیا مقدور

اُن کے حسّانؓ سے ثناخواں ہیں