← حرفِ نیاز
یاد کی مستیاں رگِ جاں ہیں
دھڑکنیں دِل کی زمزمہ خواں ہیں
ملے ہوئی تھی یہ بات روزِ اَزَل
آج کے کب یہ عہد و پیماں ہیں
وہ مِرے روز و شب کے محور ہیں
وہ مِری زِندگی کے عنواں ہیں
نامِ پاک اُن کا حرزِ جاں ہے مِرا
ہر گھڑی وہ مِرے نِگہباں ہیں
یہ نَوازِش ہے چشمِ رحمت کی
سخت راہیں بھی آج آساں ہیں
رونقِ بزمِ کائنات وہ ہیں
عالَمِ شش جہت کی وہ جاں ہیں
واصِلِ ذات ہیں وہ مظہرِ گُل
وہ عدیم المثال انساں ہیں
ساجدؔ بے ہنر کا کیا مقدور
اُن کے حسّاں سے شاخواں ہیں