جانِ جہاں

اُن کو امکان و قدم مانتے ہیں

ذات کی شان اَتَم مانتے ہیں

چشمۂ رحمتِ باری ہیں وہ

سربسر اُن کو کرم مانتے ہیں

خواجہ ﷺ و حق ہیں جُدا دو ذاتیں

اُن کو آپس میں بَہَم مانتے ہیں

لوگ کعبہ، کہتے ہیں کوچے جن کو

ہم اُنہیں باغِ ارم مانتے ہیں

حصّۂ علمِ خداداد نبی ﷺ

دفترِ لوح و قلم مانتے ہیں

فاصلِ فرش سے تا عرش بَریں

آپ ﷺ کا ایک قدم مانتے ہیں

جو بشر نُورِ مجسّم ساجدؔ

وہ رسُولِ آخری ہم مانتے ہیں