جانِ جہاں
1

تَصوُّر میں جمائے ہم نظر آقا ﷺ کے ابرو پر

پھریں پتھلوں⚠️ کے شہر میں، کبھی بیٹھیں لب جو⚠️ پر

2

جلائے آگ قالب کو مِرے، ممکِن نہیں ہرگِز

اگر لگ جائے میرا ہاتھ اُن کے در کے بازو پر

3

محبّت کے کسی بیمار سے پوچھیں یہ کیفیت

یہ مستانے فِدا ہوتے ہیں کیوں پتھلوں⚠️ کی خُوشبو پر

4

درودِ پاک کی عظمت کھلے گی اہلِ مَحشَر پر

معاصی جب ہمارے تولے جائیں ترازو پر

5

مجھے جب یاد آتا ہے مدینے میں قیامِ اپنا

اکیلے میں بہت روتا ہوں میں سر رکھ کے زانو پر

6

یہ جَلوے روزِ روشن کے ہیں قُرباں اُن کی صورت پر

فِدا ہیں عِشقِ پنہاں اور سنبل اُن کے گیسو پر

7

خُدا توفیق دے نعتیں سدا لکھتا رہوں ساؔجِد

مِرا ایمان و جِسم و جان قُرباں شاہ ﷺ کے اُنو⚠️ پر