شوقِ فراواں

کیا حَسِیں اپنی مِثال آپ ہے ایواں اُن کا

روشنِ بزمِ جہاں طلعتِ⚠️ ذی شان اُن کا

اُن کے صدقے ہے بھی⚠️ لُطف و عِنایَت کی بساط

ہر بشرِ دَہر کا لاریب ہے مہمان اُن کا

کوئی سُلطان کہ بِھکاری ہو فقیہ⚠️ ہو کہ فقیر

اُنس و جاں اور ملائک پہ ہے اِحسان اُن کا

دین و دُنیا کی ہے اُس شخص کو دولت حاصل

جس کے ہاتھوں میں ہوا گوشۂ دامان اُن کا

آپ کے سینے میں قُرآن کا ظاہر باطِن

ہے حَسِیں باب حقیقت کا گریباں اُن کا

از اُفق تا بہ اُفق رحمتِ عالَم کی فضا

منکِ⚠️ افشاں ہے عجب گمسوئے⚠️ بِیاباں⚠️ اُن کا

جامِ جمشید پہ کب اُن کی نظر ہے ساجدؔ

ہو گیا جن کو عطا ساغَرِ عِرفان اُن کا