شوقِ فراواں
1

کیا حَسِیں اپنی مِثال آپ ہے ایواں اُن کا

روشنِ بزمِ جہاں طلعتِ⚠️ ذی شان اُن کا

2

اُن کے صدقے ہے بھی⚠️ لُطف و عِنایَت کی بساط

ہر بشرِ دَہر کا لاریب ہے مہمان اُن کا

3

کوئی سُلطان کہ بِھکاری ہو فقیہ⚠️ ہو کہ فقیر

اُنس و جاں اور ملائک پہ ہے اِحسان اُن کا

4

دین و دُنیا کی ہے اُس شخص کو دولت حاصل

جس کے ہاتھوں میں ہوا گوشۂ دامان اُن کا

5

آپ کے سینے میں قُرآن کا ظاہر باطِن

ہے حَسِیں باب حقیقت کا گریباں اُن کا

6

از اُفق تا بہ اُفق رحمتِ عالَم کی فضا

منکِ⚠️ افشاں ہے عجب گمسوئے⚠️ بِیاباں⚠️ اُن کا

7

جامِ جمشید پہ کب اُن کی نظر ہے ساؔجِد

ہو گیا جن کو عطا ساغَرِ عِرفان اُن کا