← شوقِ فراواں
1
یہ نُورِ درخشش⚠️ جہات میں ہے حُسنِ ذات کا
شاہِ رُسُل کی ذات ہے دمِ کائنات کا
2
مانی⚠️ ہوئی یہ خاص حقیقت ہے دَہر کی
نامِ نبی وسیلہ ہے غم سے نَجات کا
3
ایسا کہاں نبات کا ہے ذائقہ کوئی
کیسا لذیذ ہے مزا آقا کی بات کا
4
بٹھری⚠️ ہوئی ابد سے ہے کابل کی سرزمیں
میرے حضور! جل ٹھیا⚠️ گُلشنِ ہرات کا
5
جس کی حریم جاں میں بسی ہے نبی کی یاد
اس کو کہاں خِیال ہے دِن اور رات کا
6
پر ہیں کے ابرِ رحمتِ باری کے بے شُمار
بھیجیں نبی کو تحفۂ سلام و صلوٰت کا
7
ساؔجِد نوشتِ⚠️ نعت کو سجدے میں ہے قلم
اکثر ٹھمٹلا⚠️ ہے بنو⚠️ دُعا منہ دوات کا