شوقِ فراواں

یہ نُورِ درخشش⚠️ جہات میں ہے حُسنِ ذات کا

شاہِ رُسُل کی ذات ہے دمِ کائنات کا

مانی⚠️ ہوئی یہ خاص حقیقت ہے دَہر کی

نامِ نبی وسیلہ ہے غم سے نَجات کا

ایسا کہاں نبات کا ہے ذائقہ کوئی

کیسا لذیذ ہے مزا آقا کی بات کا

بٹھری⚠️ ہوئی ابد سے ہے کابل کی سرزمیں

میرے حضور! جل ٹھیا⚠️ گُلشنِ ہرات کا

جس کی حریم جاں میں بسی ہے نبی کی یاد

اس کو کہاں خِیال ہے دِن اور رات کا

پر ہیں کے ابرِ رحمتِ باری کے بے شُمار

بھیجیں نبی کو تحفۂ سلام و صلوٰت کا

ساجدؔ نوشتِ⚠️ نعت کو سجدے میں ہے قلم

اکثر ٹھمٹلا⚠️ ہے بنو⚠️ دُعا منہ دوات کا