شوقِ فراواں

لب پر نبی کا نام تھا حرفِ فُغاں نہ تھا

اندیشۂ کوئی دِل میں دمِ امتحاں نہ تھا

ذِکرِ رسُول کس گھڑی وِرد زُباں نہ تھا⚠️

محبوبِ ربِّ پاک کا چرچا کہاں نہ تھا

اُن کی نَوازِشوں سے سدا دِل رکھتے⚠️ رہے

اُن کے کرم سے بڑھ کے کوئی سائباں نہ تھا

حالاتِ روزگار کو وہ جانتے ہیں خوب

اُمّت کا حال اُن کی نظر سے نِہاں نہ تھا

شاہِ رُسُل کے روضے کا نہیں کوئی نَظِیر

اُس آستاں سے بڑھ کے کوئی آستانہ نہ تھا

دِن رات زائروں کی وہاں بھیڑ⚠️ بھاڑ⚠️ ہے

در پر رسُولِ پاک کے کب سنسان⚠️ نہ تھا

ساجدؔ ہیں مہربانیاں اُن کی شبانہ روز

کب مملکت⚠️ وہ دیدۂ شاہِ جہاں نہ تھا