شوقِ فراواں
1

لب پر نبی کا نام تھا حرفِ فُغاں نہ تھا

اندیشۂ کوئی دِل میں دمِ امتحاں نہ تھا

2

ذِکرِ رسُول کس گھڑی وِرد زُباں نہ تھا⚠️

محبوبِ ربِّ پاک کا چرچا کہاں نہ تھا

3

اُن کی نَوازِشوں سے سدا دِل رکھتے⚠️ رہے

اُن کے کرم سے بڑھ کے کوئی سائباں نہ تھا

4

حالاتِ روزگار کو وہ جانتے ہیں خوب

اُمّت کا حال اُن کی نظر سے نِہاں نہ تھا

5

شاہِ رُسُل کے روضے کا نہیں کوئی نَظِیر

اُس آستاں سے بڑھ کے کوئی آستانہ نہ تھا

6

دِن رات زائروں کی وہاں بھیڑ⚠️ بھاڑ⚠️ ہے

در پر رسُولِ پاک کے کب سنسان⚠️ نہ تھا

7

ساؔجِد ہیں مہربانیاں اُن کی شبانہ روز

کب مملکت⚠️ وہ دیدۂ شاہِ جہاں نہ تھا