جانِ جہاں
1

جس نے بھی گوہرِ عِرفانِ حقیقت پایا

یہ حقیقت، ہے شہِ دیں ﷺ کی بدولت پایا

2

ہم بھٹکے عالَمِ ایجاد میں ہر سُو، آخر

در پہ سرکار ﷺ کے گنجینۂ راحَت پایا

3

جس سفینے کا ہے رُخ جانِب بلھی⚠️ ہم نے

موج و گرداب میں بھی اُس کو سلامت پایا

4

جس کی صورت سے عَیاں ذاتِ خُدا ہے، اللہ

ہر طرف ہم نے وہی جلوۂ رحمت پایا

5

مرحبا، وہ ہوا مقبولِ زمانے بھر میں

جس نے فیضانِ غلامی نُبُوت پایا

6

آلِ سلطین سے ہے دِل کی ارادت رُخ⚠️

تھک گئے ہم نے جہاں نُورِ امامت پایا

7

خوفِ عصیاں کا نہیں ہم کو ذرا بھی ساؔجِد

جب سے سرکار ﷺ کا پیغامِ شفاعت پایا