← شوقِ فراواں
دِل مِرا اُن کی زیارت کے لیے رویا بہت
دامَنِ دِل بسکہ میلا تھا اُسے دھویا بہت
دستِ رحمت نے کیا بیدار اُسے اِک آن میں
ناساعدِ⚠️ بخت میرا رات دِن سویا بہت
بِجُز نبی ممکِن نہیں حق تک رسائی کا خِیال
اس لیے ہم ہیں شہِ لولاک کے جویا بہت
دِل وہ کیا دِل جس میں استعدادِ عِرفاں ہی نہیں
وہ زمیں کیا جس سے کچھ پایا نہ ہو بویا بہت
کامِ کا آیا نہ حرف اُن کی زُباں کلک پر
ہیں حضور کو کچھ ایسے بھی کہ ہیں گویا بہت
وَصل کو سرمایۂ جانِ طاعت خیراور⚠️ کی
کیا ہوا گر مال و زرِ دُنیا کا کم ہو یا بہت
نعت گوئی کام ہے دِن رات اب ساجدؔ مِرا
پہلے وقت اپنا بزلِ⚠️ گوئی میں ہے کھویا بہت