شوقِ فراواں
1

دِل مِرا اُن کی زیارت کے لیے رویا بہت

دامَنِ دِل بسکہ میلا تھا اُسے دھویا بہت

2

دستِ رحمت نے کیا بیدار اُسے اِک آن میں

ناساعدِ⚠️ بخت میرا رات دِن سویا بہت

3

بِجُز نبی ممکِن نہیں حق تک رسائی کا خِیال

اس لیے ہم ہیں شہِ لولاک کے جویا بہت

4

دِل وہ کیا دِل جس میں استعدادِ عِرفاں ہی نہیں

وہ زمیں کیا جس سے کچھ پایا نہ ہو بویا بہت

5

کامِ کا آیا نہ حرف اُن کی زُباں کلک پر

ہیں حضور کو کچھ ایسے بھی کہ ہیں گویا بہت

6

وَصل کو سرمایۂ جانِ طاعت خیراور⚠️ کی

کیا ہوا گر مال و زرِ دُنیا کا کم ہو یا بہت

7

نعت گوئی کام ہے دِن رات اب ساؔجِد مِرا

پہلے وقت اپنا بزلِ⚠️ گوئی میں ہے کھویا بہت