شوقِ فراواں

کیا ہوئی اندوہ سے یہ شکل و صورت الغِیَاث

زِندگی بھر یوں نہ دکھمی⚠️ دِل کی حالت الغِیَاث

کب تھے آنکھوں سے یہ باران حَسرت الغِیَاث

یا نبی! مجھ غم گزیدہ پر عِنایَت الغِیَاث

مُنتَظرِ مُدّت سے ہے دِلِ دھل⚠️ کی راحَت ملے

دُور ہو میرے خُدا! اب دردِ فرقت⚠️ الغِیَاث

جو حبیبِ حق ہمارا کون اِس دُنیا میں ہے

کون کرتا ہے غریبوں کی عیادت الغِیَاث

یا رسُول اللہ! اِس جانِب بھی چشمِ اِلتِفات

جان و دِل پر رات دِن چھائی ہے غفلت الغِیَاث

کب نبی کے شہر کا ہو گا سفر ہم کو نصیب

ہو گی کب آلام سے ہم کو فراغت الغِیَاث

کب پنچھے⚠️ گی جاں مِری مشقِ⚠️ فَراواں کا مزا

اوج پر آئے گی ساجدؔ کب محبت الغِیَاث