شوقِ فراواں

نہ کر وِلائے نبی کے کسی امیر سے بحث

خُدا کے واسطے مت کر کسی فقیر سے بحث

خُدا غفور رسُول خُدا رؤف و رحیم

عذابِ عتب⚠️ سے ہے کر نہ چرخِ پیر سے بحث

نہیں ہے زوجِ پَیمبر سے جان اُس کی جُدا

نہ بھول کر بھی کر بندۂ قدیر سے بحث

ہے جس کا قبلہ ہی پنج⚠️ اور خود بھی پنج⚠️ رفتار

کرے گا کیا وہ کوئی مردِ حق پذیر سے بحث

نبی کو چاہنے والا ہے اپنے حال میں خو⚠️

کبیر کرتا نہیں ہے کبھی صغیر سے بحث

صنمِ کلیسا کی چندا⚠️ رنگور⚠️ ہے کیسے سے

حمال⚠️ ہے کہ کرے گی کماں تیر سے بحث

نہ چھیڑ ساجدؔ سرمست کو بہت مغرور!

نہ کر غلامِ غلاماں دلپذیر سے بحث