شوقِ فراواں
1

تا سدرہ تھے جبریل بھی شامِلِ شبِ مِعراج

حق اور نبی تھے سرِ منزِل شبِ مِعراج

2

تھا فرش سے تا عرش سجا پھولوں سے رستا

تھی آپ سے سب روشنِ محفِل شبِ مِعراج

3

نفحات تھے خوشیوں کے لبِ موج و ملک پر

آفاق میں انسان تھے خُوش دِل شبِ مِعراج

4

باطِل تھا سرافگندہ مگر حق تھا سرافراز

تھی فرق میانِ حق و باطِل شبِ مِعراج

5

گمِ ذاتِ خُداوند میں تھا جلوۂ اعظم

یوں حق سے شہِ حُسن تھے واصِل شبِ مِعراج

6

دُنیا یہ طَرَب زار تھی سَرشار تھا ہر فرد

ابلیس تھا پابندِ سلاسل شبِ مِعراج

7

ساؔجِد تھی ہر اِک چیز حَسِیں پہلے سے بڑھ کر

ذرّہ بھی بڑا تھا نہ کامِل⚠️ شبِ مِعراج