شوقِ فراواں

تا سدرہ تھے جبریل بھی شامِلِ شبِ مِعراج

حق اور نبی تھے سرِ منزِل شبِ مِعراج

تھا فرش سے تا عرش سجا پھولوں سے رستا

تھی آپ سے سب روشنِ محفِل شبِ مِعراج

نفحات تھے خوشیوں کے لبِ موج و ملک پر

آفاق میں انسان تھے خُوش دِل شبِ مِعراج

باطِل تھا سرافگندہ مگر حق تھا سرافراز

تھی فرق میانِ حق و باطِل شبِ مِعراج

گمِ ذاتِ خُداوند میں تھا جلوۂ اعظم

یوں حق سے شہِ حُسن تھے واصِل شبِ مِعراج

دُنیا یہ طَرَب زار تھی سَرشار تھا ہر فرد

ابلیس تھا پابندِ سلاسل شبِ مِعراج

ساجدؔ تھی ہر اِک چیز حَسِیں پہلے سے بڑھ کر

ذرّہ بھی بڑا تھا نہ کامِل⚠️ شبِ مِعراج