نور و سرور

اُن کے در پر جو لوگ آتے ہیں

اپنے دِل کی مراد پاتے ہیں

کوئی مشکل نہیں اُنہیں مشکل

سنگ کو وہ گُہر بناتے ہیں

اُن کے خواں کرم سے اِک ہم کیا

اہلِ عالَم تمام کھاتے ہیں

دائرے روشنی کے بنتے ہیں

جِس گھڑی آپؐ مسکراتے ہیں

ہم ہمیشہ جنابؐ کے در سے

بے طلب بے حِساب پاتے ہیں

دِل کا دامَن ہے مُختَصَر اپنا

اُن کے جَلوے کہاں سماتے ہیں

ذِکرِ اُن کا ہے پاسباں ساجد

رنج و آلام جب ستاتے ہیں