نور و سرور
1

اُن کے در پر جو لوگ آتے ہیں

اپنے دِل کی مراد پاتے ہیں

2

کوئی مشکل نہیں اُنہیں مشکل

سنگ کو وہ گُہر بناتے ہیں

3

اُن کے خوانِ کرم سے اِک ہم کیا

اہلِ عالَم تمام کھاتے ہیں

4

دائرے روشنی کے بنتے ہیں

جِس گھڑی آپؐ مسکراتے ہیں

5

ہم ہمیشہ جنابؐ کے در سے

بے طلب بے حِساب پاتے ہیں

6

دِل کا دامَن ہے مُختَصَر اپنا

اُن کے جَلوے کہاں سماتے ہیں

7

ذِکر اُن کا ہے پاسباں ساؔجِد

رنج و آلام جب ستاتے ہیں