شوقِ فراواں
1

جاں ہے نبیؐ کے در سے برابر گلی⚠️ ہوئی

میری نظر ہے عرش پر گلی⚠️ ہوئی

2

یہ فیض ہے نبیؐ پہ درود و سلام کا

روقن⚠️ جو میرے دِل کے ہے اندر گلی⚠️ ہوئی

3

حاس دِل کو آئے گی اُس کی تیش⚠️ سرُور

گر آگ اور ہو کہیں باہر گلی⚠️ ہوئی

4

کیا زر بھی ساتھ عالَم برزخ میں جائے گا

یہ دور کیا ہے گُنبد بے در گلی⚠️ ہوئی

5

خنکیِ نِگاہ لُطف کی اس غم کی دُھوپ میں

چھتری⚠️ سی اِک طلب ہے بڑھ کر گلی⚠️ ہوئی

6

مجھ پر خُدا کالطف ہے دِل حوصلے میں ہے

پیچھے بلا ہو مقرر گلی⚠️ ہوئی

7

تختہ نبیؐ کی آل کا ساؔجِد ہے سر کا تاج

کالی گاہ یہ مِرے سر پر گلی⚠️ ہوئی