شوقِ فراواں
1

شکتِ⚠️ سختی کرم سے کنارے آن گئی

فُغاں لبوں سے وہ جا اُنؐ کے آستان گئی

2

ادھر بھی جاپئے⚠️ اِک ساغَر زلال جمال

بہت ہی پیاس زیارت کی مِہربان گئی

3

ہے بسکہ سعد مِری عمر کی ہر ایک گھڑی

در رسُولؐ سے ہے جب سے میری جان گئی

4

کبھی کسی نے جو رودواد اپنی اُلفت کی

جو داستاں سنی میری داستان گئی

5

محبت شہ دیں جس کے دِل میں آئی نظر

طبیعت اُس کی مجھے خوب ٹکتا دان گئی

6

ضرور پوری ہوتی آرزوئے دیر مگر

یہ آرزو مجھے اب اور بھی جوان گئی

7

نصیب ذائقہ⚠️ کیا زُباں کیا ساؔجِد

یہ جب سے منہ میں مِرے نعت کی زبان گئی