شوقِ فراواں

شکتِ⚠️ سختی کرم سے کنارے آن گئی

فُغاں لبوں سے وہ جا اُنؐ کے آستان گئی

ادھر بھی جاپئے⚠️ اِک ساغَر زلال جمال

بہت ہی پیاس زیارت کی مِہربان گئی

ہے بسکہ سعد مِری عمر کی ہر ایک گھڑی

در رسُولؐ سے ہے جب سے میری جان گئی

کبھی کسی نے جو رودواد اپنی اُلفت کی

جو داستاں سنی میری داستان گئی

محبت شہ دیں جس کے دِل میں آئی نظر

طبیعت اُس کی مجھے خوب ٹکتا دان گئی

ضرور پوری ہوتی آرزوئے دیر مگر

یہ آرزو مجھے اب اور بھی جوان گئی

نصیب ذائقہ⚠️ کیا زُباں کیا ساجدؔ

یہ جب سے منہ میں مِرے نعت کی زبان گئی