شوقِ فراواں
1

عِشق کی راہ نہیں فلکر⚠️ فلاطوں چلتی

کشتی شوق فقَط ہے سر یوں چلتی

2

مجھ کو بھی آئیں نظر کاش وہ کہتے پہرے

باڑ فصل گُل طلیدہ کی میں دیکھوں چلتی

3

رد طوفاں کو نبیؐ کا تھا اشارہ کافی

گر مخالف میرے یہ گردش گردوں چلتی

4

چھیڑے رہتے جو سوغات دروودوں کی انہیں

قہر کی آدمی نہ زِنہَار بھی یوں چلتی

5

گر نہ رحمت کا ہوا کا مجھے چھوونا آتا

نبض ہرگِز نہ مِری اے دِل بے خوں چلتی

6

آپؐ کے قبول کے کب سے زِندگی ہوتی شاداں

شہر کو چھوڑے کے کب جانِب ہاموں چلتی

7

کب گوارا مجھے ساؔجِد یہ تھا نعتوں کے عوض

لے کے تقدیر مِری دولت قارون چلتی