شوقِ فراواں

صِدق و صفا سے کس نے نعیب⚠️ نبیؐ نے سُنائی

سیدھی وہ دِل میں اُتِری ایسے وہ دی سُنائی

کیا خوب ہیں یہ راتیں ہیں اُنؐ کی باتیں

جی میں ہیں وارداتیں دِل کی سُنی سُنائی

زائر نے خوب کھینچا⚠️ اظہاریوں کا منظَر

خُوشبو و رونی⚠️ کی رودواد بھی سُنائی

دِل کی جراتوں پر مرہم کرم کا رکھا

جب بھی نبیؐ نے دِل کی فریاد دی سُنائی

مقدور ہے پہ جانا جس کا نہیں مُقدّر

گردوں نے یہ سرا بھی اُس کو کڑی سُنائی

حوروں کے شوق میں جو پھرتا ہے مارا مارا

زاہد کو بات میں نے دیشب⚠️ کھری سُنائی

ہنگامہ چار جانِب ساجدؔ ہے اِک قِیامت

دیتی نہیں صدا اب کانوں پڑی سُنائی