شوقِ فراواں
1

صِدق و صفا سے کس نے نعیب⚠️ نبیؐ نے سُنائی

سیدھی وہ دِل میں اُتِری ایسے وہ دی سُنائی

2

کیا خوب ہیں یہ راتیں ہیں اُنؐ کی باتیں

جی میں ہیں وارداتیں دِل کی سُنی سُنائی

3

زائر نے خوب کھینچا⚠️ اظہاریوں کا منظَر

خُوشبو و رونی⚠️ کی رودواد بھی سُنائی

4

دِل کی جراتوں پر مرہم کرم کا رکھا

جب بھی نبیؐ نے دِل کی فریاد دی سُنائی

5

مقدور ہے پہ جانا جس کا نہیں مُقدّر

گردوں نے یہ سرا بھی اُس کو کڑی سُنائی

6

حوروں کے شوق میں جو پھرتا ہے مارا مارا

زاہد کو بات میں نے دیشب⚠️ کھری سُنائی

7

ہنگامہ چار جانِب ساؔجِد ہے اِک قِیامت

دیتی نہیں صدا اب کانوں پڑی سُنائی