شوقِ فراواں
1

در پر اپنے وہ شہرِ حسن بلائے تو سی

اپنی رحمت کا کرشمہ یہ دکھائے تو سی

2

ایک ہی اُنؐ کی زیارت سے بدل جائے نصیب

جلوہ ذات خُدا دِل میں سمائے تو سی

3

اُنؐ کی راہوں میں دِل و جان نچھاور کر دوں

میرا آقا میرے گھر پر کبھی آئے تو سی

4

دور اَفلاک سے میں بات کروں گا مکمل کر

وہ بتائید خُدا ہاتھ میں آئے تو سی

5

کرب پیہم کا دھواں آن میں اُڑ جائے گا

دِل میں ذِکر شہرِ⚠️ دیں رنگ جمائے تو سی

6

چار جانِب اُسے اَنوار نظر آئیں گے

قصہ اِک خوان نبیؐ سے کوئی کھائے تو سی

7

دِل کی دُنیا ہی بدل جاتی ہے ساؔجِد

میں فِدا جاؤں کوئی نعتِ نبیؐ سنائے تو سی