← شوقِ فراواں
در پر اپنے وہ شہرِ حسن بلائے تو سی
اپنی رحمت کا کرشمہ یہ دکھائے تو سی
ایک ہی اُنؐ کی زیارت سے بدل جائے نصیب
جلوہ ذات خُدا دِل میں سمائے تو سی
اُنؐ کی راہوں میں دِل و جان نچھاور کر دوں
میرا آقا میرے گھر پر کبھی آئے تو سی
دور اَفلاک سے میں بات کروں گا مکمل کر
وہ بتائید خُدا ہاتھ میں آئے تو سی
کرب پیہم کا دھواں آن میں اُڑ جائے گا
دِل میں ذِکر شہرِ⚠️ دیں رنگ جمائے تو سی
چار جانِب اُسے اَنوار نظر آئیں گے
قصہ اِک خوان نبیؐ سے کوئی کھائے تو سی
دِل کی دُنیا ہی بدل جاتی ہے ساجدؔ
میں فِدا جاؤں کوئی نعتِ نبیؐ سنائے تو سی