← شوقِ فراواں
1
نِسبت مجھے ملی ہے بہ دُعا نبیؐ کی
حق نے بنام نبیؐ ذی منتخب کی
2
ہر قول و فعل آپؐ کا حق کی رضا ہوا
تفسیر ہیں تمام وہ روشن کتاب کی
3
میرے حضورؐ پاک کے تلووں کی ہے ضِیا
تابش یہ نُور نجم و ماہ و آفتاب کی
4
سر ہے صفائے آئنہ کا بھی کبھی جھکا
خوبی ہو کیا بیاں کیا رُخ لاجواب کی
5
گردوں نے کیا سنہرے زمانے وہ پائے ہیں
کوئی مِثال ہی نہیں اُن کے شباب کی
6
شہرِ نبیؐ کے راہبگزاروں میں آج بھی
خُوشبو بھی ہے عنبر و عود و گلاب کی
7
ساؔجِد کلام اُنؐ کا فصاحت ہے سر بسر
دفتر ہیں حکمتوں کے یہ باتیں جناب کی