شوقِ فراواں

نِسبت مجھے ملی ہے بہ دُعا نبیؐ کی

حق نے بنام نبیؐ ذی منتخب کی

ہر قول و فعل آپؐ کا حق کی رضا ہوا

تفسیر ہیں تمام وہ روشن کتاب کی

میرے حضورؐ پاک کے تلووں کی ہے ضِیا

تابش یہ نُور نجم و ماہ و آفتاب کی

سر ہے صفائے آئنہ کا بھی کبھی جھکا

خوبی ہو کیا بیاں کیا رُخ لاجواب کی

گردوں نے کیا سنہرے زمانے وہ پائے ہیں

کوئی مِثال ہی نہیں اُن کے شباب کی

شہرِ نبیؐ کے راہبگزاروں میں آج بھی

خُوشبو بھی ہے عنبر و عود و گلاب کی

ساجدؔ کلام اُنؐ کا فصاحت ہے سر بسر

دفتر ہیں حکمتوں کے یہ باتیں جناب کی