← شوقِ فراواں
ہم کو یاد مصطفیؐ طیب طرا اُڑا کر لے گئی
موج رحمت اُن کی خِدمت میں بہا کر لے گئی
خُلد میں جانے کی ہم کو کچھ توقع تھی نہ تھی
مغفرت دامان رحمت میں پناہ کر لے گئی
میں پڑا تھا نیم جاں بے حال زاد زِیست میں
اِک ہوا آئی مدینے کو اُٹھا کر لے گئی
معصیت آلود مجھ سا کس طرح پہنچا وہاں
رحمت حق نے مجھے جگہ کو لگا کر لے گئی
شُکر یزداں بسکہ ناممکن بھی ممکِن ہو گیا
اپنے پیچھے گرو رہ مجھ کو لگا کر لے گئی
کوئی بھی اپنا نہ تھا ساتھ لے جاتا مجھے
رحمت پروَردِگار اپنا بنا کر لے گئی
مجھ کو ساجدؔ کیا خبرتھی اُن کی محفِل ہے جبھی
یاد آئی اُن کی اور مجھ کو بلا کر لے گئی