← شوقِ فراواں
1
ہم کو یاد مصطفٰؐے طیب طرا اُڑا کر لے گئی
موج رحمت اُن کی خِدمت میں بہا کر لے گئی
2
خُلد میں جانے کی ہم کو کچھ توقع تھی نہ تھی
مغفرت دامان رحمت میں پناہ کر لے گئی
3
میں پڑا تھا نیم جاں بے حال زاد زِیست میں
اِک ہوا آئی مدینے کو اُٹھا کر لے گئی
4
معصیت آلود مجھ سا کس طرح پہنچا وہاں
رحمت حق نے مجھے جگہ کو لگا کر لے گئی
5
شُکر یزداں بسکہ ناممکن بھی ممکِن ہو گیا
اپنے پیچھے گرو رہ مجھ کو لگا کر لے گئی
6
کوئی بھی اپنا نہ تھا ساتھ لے جاتا مجھے
رحمت پروَردِگار اپنا بنا کر لے گئی
7
مجھ کو ساؔجِد کیا خبرتھی اُن کی محفِل ہے جبھی
یاد آئی اُن کی اور مجھ کو بلا کر لے گئی