ذوقِ جمال

چھوڑے کے نعت مِرا، دِل مِرا، غیرکا نغمہ گائے کیوں

جس سے نفرتِ قد سیاں، لب پہ وہ شعر آئے کیوں

در پہ نبیؐ کے خستہ جاں تالہ کُناں نہ جائے کیوں

کر کے بیاں حالِ غم، بخت نہ آزمائے کیوں

مانگے خُدائے پاک سے دولتِ عِشقِ مصطفیؐ

محبتِ اہلِ شم⚠️ و زر پہ یہ جبتِ⚠️ اٹھائے کیوں

صلِّ علیؐ کے وِرد سے جاں حزین ہوشادماں

کیوں نہ اُٹھائے بارہم، درودؐ بھی اور لائے کیوں

حکمِ رسُولؐ مان لے، دِل کو جاں کو جان لے

پھیر کے اُن سے منہ کوئی، ورنہ پزرمِ⚠️ کھائے کیوں

اِیک خُدا ہے اپنا اللہ، ایک ہی راہگزار مستقیم

چھوڑے کے نُوبی⚠️ کا در، غیر کے در پہ جائے کیوں

ساجدؔ ہے یہ بانمہ آ، ہاتھ میں ہے گنج⚠️ بے بہا

چھوڑے کے در رسُولؐ کا اور کہیں یہ جائے کیوں