حرفِ نیاز
1

مِرے جان و دِل پر نشہ چھا رہا ہے

خیالوں میں شہرِ نبیؐ آ رہا ہے

2

لبوں پر ہے نعتِ محمدؐ کا نغمہ

بہاروں کا ہر سُو سماں چھا رہا ہے

3

لئے جا رہے ہیں فیوضِ محبت

ہر اِک دِل کا دامَن بھرا جا رہا ہے

4

زہے جاہ وحشت کہ سارا زمانہ

درِ مصطفٰےؐ پر جھکا جا رہا ہے

5

محبت میں بُعدِ مسافت کہاں ہے

عَبث تُجھ کو دُوری کا غم کھا رہا ہے

6

یہاں ہر گھڑی بزمِ مِدحت جمی ہے

کوئی سُن رہا ہے کوئی گا رہا ہے

7

تڑپنا ہی ساؔجِد ہے دراصل جینا

یہ اُس کا کرم ہے جو تڑپا رہا ہے