← حرفِ نیاز
مِرے جان و دِل پر نشہ چھا رہا ہے
خیالوں میں شہرِ نبیؐ آ رہا ہے
لبوں پر ہے نعتِ محمدؐؐ کا نغمہ
بہاروں کا ہر سُو سماں چھا رہا ہے
لئے جا رہے ہیں فیوضِ محبت
ہر اِک دِل کا دامَن بھرا جا رہا ہے
زہے جاہ و حشمت کہ سارا زمانہ
درِ مصطفیٰؐ پر جھکا جا رہا ہے
محبت میں بُعدِ مسافت کہاں ہے
عَبث تُجھ کو دُوری کا غم کھا رہا ہے
یہاں ہر گھڑی بزمِ مِدحت جمی ہے
کوئی سُن رہا ہے کوئی گا رہا ہے
ترنّا ہی ساجدؔ ہے دراصل جینا
یہ اُس کا کرم ہے جو تڑپا رہا ہے