نور و سرور
1

شاہِ کونین کا آستاں مل گیا

وہ ملے تو خُدائے جہاں مل گیا

2

اب میسّر ہے سامان تَسکین کا

رحمتِ ذات کا سائباں مل گیا

3

مل گئی مصطفٰیؐ کی محبت مجھے

ایک مفلس کو گنجِ گَراں مل گیا

4

ہو گیا دُور اندیشۂ راہزن

ہم کو رَہبَر شہِؐ مرسلاںؑ مل گیا

5

اُن کی چشمِ کرم مِہرباں ہو گئی

اب مدواۓ قلبِ تپاں مل گیا

6

لب پہ نامِ نبیؐ ہے بتوفیقِ حق

دِل کو راحَتِ بلیِ حرزِ جاں مل گیا

7

اب تو ساؔجِد بہت بڑھ گئیں رونقیں

اب مجھے اِک دِلِ نغمہ خواں مل گیا