نور و سرور
1

نبیؐ کی یاد میں دیوانہ وار پھرتا ہوں

میں تالہ گیرِ گُبے نغمہ بار پھرتا ہوں

2

وہاں وہاں تیرے محبوبؐ ہی کے جَلوے ہیں

جہاں جہاں میرے پروَردِگار! پھرتا ہوں

3

اُنہی کے قدموں میں مرگ آئے ‘ آرزو ہے مِری

اُنہی کے شوق میں اُن کے نثار پھرتا ہوں

4

حبیبِ حق کی محبت نے وہ سرُور دیا

مِثالِ موجۂ فصلِ بہار پھرتا ہوں

5

میں مُنتَظر ہوں شب و روز اُن کی رحمت کا

اُنہی کے لُطف کا اُمّیدوار پھرتا ہوں

6

بحالِ زار گہے دشت ہے مِرا مسکن

گہے خُوشی میں لبِ جویٔبار؟ پھرتا ہوں

7

نبیؐ کے شہر کا عزمِ سفر لیے ساؔجِد

ابھی میں محوِ غمِ انتظار پھرتا ہوں