حرفِ نیاز
1

جب کبھی یاد تِری دِل میں اُتر آتی ہے

شکل تیری مجھے ہر سِمت نظر آتی ہے

2

جامِ مستی کا پلاتی ہے مِری شام مجھے

کیف بردوش مِری سمت سحر آتی ہے

3

دِل یہ کہتا ہے تجھے ہوگی زیارت اُن کی

تیری باری بھی اب اے دیدۂ تر! آتی ہے

4

منتظر ہوں مجھے کب اِذنِ حضوری ہو گا

دیکھتا ہوں مجھے کب ایسی خبر آتی ہے

5

جب کوئی تیرِ جفا میری طرف آتا ہے

یادِ محبوبِ جہاں بن کے سپر آتی ہے

6

دیکھنا آمدِ محبوب پہ ساؔجِد کیسے

سرخوشی سارے جہاں کی میرے گھر آتی ہے