← شوقِ فراواں
1
اِکسیرِ ذِکر ہے ہمّتِ عالی تارِ کا
دارو فقَط یہی ہے غمِ روزگار کا
2
ہم سے ہے دورِ دُھوپ دُھم و اِضطِراب کی
سایہ ہے ہم پہ رحمتِ پروَردِگار کا
3
ہر لحظہ زِندگی کا گزرنا ہے کیف میں
آلِ رسُولِ پاکؐ کے خِدمت گُزار کا
4
شہرِ رسُولؐ روشنیوں کا حسین وطن
موسم ہے خوشگوار بہت اُس دیار کا
5
وِردِ درود مِرے طَیَّبہ میں خوب ہیں
طرف ہے ماجرا وہاں دِل کے قرار کا
6
ذاتِ خُدا سے ذاتِ نبیؐ کا ظہور ہے
سارے جہاں میں فیض ہے اس تاجدار کا
7
ساؔجِد نبیؐ کے خوان کرم کا ہے ریزہ خَوار
کیا ذِکر رحمتوں کے حِساب و شُمار کا