شوقِ فراواں

اِکسیرِ ذِکر ہے ہمّتِ عالی تارِ کا

دارو فقَط یہی ہے غمِ روزگار کا

ہم سے ہے دورِ دُھوپ دُھم و اِضطِراب کی

سایہ ہے ہم پہ رحمتِ پروَردِگار کا

ہر لحظہ زِندگی کا گزرنا ہے کیف میں

آلِ رسُولِ پاکؐ کے خِدمت گُزار کا

شہرِ رسُولؐ روشنیوں کا حسین وطن

موسم ہے خوشگوار بہت اُس دیار کا

وِردِ درود مِرے طَیَّبہ میں خوب ہیں

طرف ہے ماجرا وہاں دِل کے قرار کا

ذاتِ خُدا سے ذاتِ نبیؐ کا ظہور ہے

سارے جہاں میں فیض ہے اس تاجدار کا

ساجدؔ نبیؐ کے خوان کرم کا ہے ریزہ خَوار

کیا ذِکر رحمتوں کے حِساب و شُمار کا