شوقِ فراواں
1

دیکھا فلَک نے ماہ کب اس آب و تاب کا

یہ چہرہ ہے جَنابِ رِسالت مآب کا

2

مذہب مِرا ہے سیّدِ عالَم کی پِیرَوی

عنوان ہیں آپؐ حُسنِ عمل کی کتاب کا

3

مِعراج کو بجسم بشر مصطفٰےؐ گئے

فرمان ہے خُدا کا نہیں قصّہ خواب کا

4

نُور خُدا میں غرق ہے اللہ کا فقیر

پہلا سبق فنا ہے والا کے نصاب کا

5

سُلطانِ دیں کی یاد سے دِل پُر بہار ہے

رہتا ہے جادواں کھلا زرخیز اس گلاب کا

6

سجدہ درود چاہیے بے لوث و بے غرض

شامِل نہو خِیال اُمیدِ ثواب کا

7

ساؔجِد خُدا کے اذن سے آقا ہیں دیگر

اندیشہ دِل میں کیونکہ ہو روزِ حِساب کا