شوقِ فراواں
1

بہ ادب ہو کر جو چشم مِہرباں سے گر پڑے

یہ حقیقت ہے وہ بامِ آسماں سے گر پڑے

2

جب صدا اللہ اکبر کی اٹھی چاروں طرف

دشمنانِ دیں کے دِل ڈر آپؐ کے اذاں سے گر پڑے

3

ہے کسے معلوم فَردا آئے گا کس حال میں

ذہن کے خاکے تو مرگ ناگہاں سے گر پڑے

4

نارسا اُن کی نظر اور فکرِ تہی حق ناشناس

تھے یہ اختر سپہرِ آستاں سے گر پڑے

5

مشرکوں کے دِل یقیں کے نُور سے محروم تھے

یوکھلا کر شدّت وہم و گُماں سے گر پڑے

6

لب پہ جس کے خاموشی ہے پا گیا آخر نَجات

ہے وہ خاموش رازِ جاں جس کی زُباں سے گر پڑے

7

ہم ہوئے ساؔجِد سِک سار اُن کی رحمت سے فقَط

اور ہوں گے اپنے جو باربارِ گَراں سے گر پڑے