← شوقِ فراواں
شاہِ کونین کی گر نعت زُباں پر ہوتی
حالت اس درجہ نہ آلام سے ابتر ہوتی
گر مَشیّت میں نظر لُطف کی سب پر ہوتی
آنکھ کوئی بھی نہ آلام سے یوں تر ہوتی
چشمِ مہر آپؐ کی جس روح پہ پل بھر ہوتی
بحرِ وحدت کی وہ اللہ شناور ہوتی
کاش امّت یہ حد سے نہ یوں بے در ہوتی
چشمِ اَفلاک میں جوں سیپ گوہر ہوتی
گر نہ ہوتا یہ نفاق ایک ہی لشکر ہوتی
غالب اس دَہر پہ یہ ملّی سَمُندر ہوتی
آپؐ کی محفِلِ میلاد جو گھر گھر ہوتی
پھر کسی لب پہ نہ آو دِل مُضطَر ہوتی
تھا یہ اللہ کی حکمت کے خلاف اے ساجد
ریگبور خیر کی ہوتی نہ رہ شر ہوتی