شوقِ فراواں
1

شاہِ کونین کی گر نعت زُباں پر ہوتی

حالت اس درجہ نہ آلام سے ابتر ہوتی

2

گر مَشیّت میں نظر لُطف کی سب پر ہوتی

آنکھ کوئی بھی نہ آلام سے یوں تر ہوتی

3

چشمِ مہر آپؐ کی جس روح پہ پل بھر ہوتی

بحرِ وحدت کی وہ اللہ شناور ہوتی

4

کاش امّت یہ حد سے نہ یوں بے در ہوتی

چشمِ اَفلاک میں جوں سیپ گوہر ہوتی

5

گر نہ ہوتا یہ نفاق ایک ہی لشکر ہوتی

غالب اس دَہر پہ یہ ملّی سَمُندر ہوتی

6

آپؐ کی محفِلِ میلاد جو گھر گھر ہوتی

پھر کسی لب پہ نہ آو دِل مُضطَر ہوتی

7

تھا یہ اللہ کی حکمت کے خلاف اے ساؔجِد

ریگبور خیر کی ہوتی نہ رہ شر ہوتی