شوقِ فراواں
1

عرش سے بڑھ کر ہے رہتے میں شبِستاں نُور کا

ہو غُلامِ اُنؐ کا مقدّر ہے کہاں غفّور کا

2

یادِ اُنؐ کی ہے مِرے کرب دِل و جاں کا عِلاج

چارہ ہے مصلِ آلام مِلّے آنسور کا

3

آپؐ کے دم سے زمین و آسماں کی روشنیاں

گُل جہاں میں ہے اُجالا اُس سراپا نُور کا

4

آپؐ سن سکتے ہیں گوشِ حق سے باتیں دور کی

ایک سا ہے فاصلہ اُنؐ کو قریب و دور کا

5

جس پہ مَستی چھا گئی روحِ کلیمِ اللہ پر

روشنی تھی اُس کی صفت کی نُورِ طُور کا

6

خیر خَلقِ اللہ عالَم میں ہیں محبوبؐ خُدا

ترجمان ہے فعلِ اُنؐ کا دفترِ دستور کا

7

آپؐ کا فرمان عالی حاکمِ ربّ العالمین

حرف کیوں بدلے گا ساؔجِد آپؐ کے مذکور کا