شوقِ فراواں

نہیں ہے اِک ذرا بھی شوقِ دِل میں ساغَرِ ہم کا

لبوں پر جام ہے جب سے دِلائے شاہِ عالَم کا

وہی ہیں شافعِ مَحشَر وہی محبوب داوَر ہیں

وہی سرمایہ عزّ و شرف اولادِ آدم کا

بغیر اُنؐ کے پہنچنا ہے خُدا تک ناممکن

وسیلہ وَصلِ حق کا ہے وہ مظہر اسمِ اعظم کا

گرا سیدھے میں کعبہ اُن کی ستّ اُن کی ولادت پر

بجا دیتا ہے عالَم آپؐ کی شانِ معظّم کا

یہ یقیناً حق نے بنائی ہے زمیں مسجد

نشانی اُنؐ کے عَبدِ پاک کی آبِ زمزم کا

خزانے پادشاہوں کے عطا اُن کی یہ بھڑکی سی

انہی کا فیض ہے اعجاز سبِ عیسیٰ مریم کا

نزول رحمت باری ہو ہم پر رات دِن ساجدؔ

کریں جمع و ما ہم شُکر نعمتِ ذاتِ ارحم کا