← شوقِ فراواں
1
نہیں ہے اِک ذرا بھی شوقِ دِل میں ساغَرِ ہم کا
لبوں پر جام ہے جب سے دِلائے شاہِ عالَم کا
2
وہی ہیں شافعِ مَحشَر وہی محبوب داوَر ہیں
وہی سرمایہ عِزّ و شرف اولادِ آدم کا
3
بغیر اُنؐ کے پہنچنا ہے خُدا تک ناممکن
وسیلہ وَصلِ حق کا ہے وہ مظہر اسمِ اعظم کا
4
گرا سیدھے میں کعبہ اُن کی ستّ اُن کی ولادت پر
بجا دیتا ہے عالَم آپؐ کی شانِ معظّم کا
5
یہ یقیناً حق نے بنائی ہے زمیں مسجد
نشانی اُنؐ کے عَبدِ پاک کی آبِ زمزم کا
6
خزانے پادشاہوں کے عطا اُن کی یہ بھڑکی سی
انہی کا فیض ہے اعجاز سبِ عیسیٰ مریم کا
7
نزول رحمت باری ہو ہم پر رات دِن ساؔجِد
کریں جمع و ما ہم شُکر نعمتِ ذاتِ ارحم کا