شوقِ فراواں

تقاضیں ستوں آپؐ کی نُوری مندِیر کا

ہے خوبِ وقت برکتوں والا سویر کا

دولت دلائے مصطفیٰؐ کی چاہیے مجھے

طالب نہیں ہوں لعل و زمرد و ڈھیر کا

صورت میں گو کہ ایک ہیں رہتے میں ہیں خُدا

ہوتا بہت ہے فرق زبر اور زیر میں

رہتا ہے عمر بھر جو صف آرا خلاف شر

ہوتا ہے کام یہ فقَط مومن دلیر کا

بے خوف ڈہ غنیم سے ہے بچ پنچے آزما

پہلو میں مجھے اس کے کوئی دِل ہے شیر کا

اللہ اپنے در پہ بَلائیں مجھے حضورؐ

بیٹھا ہوں انتظار عِنایَتِ دیر کا

دِل کا جو صاف ہے اے ساجدؔ نہیں غم

اُس نے پڑھا نہیں ہے سبق ہیر پھیر کا