← شوقِ فراواں
1
تقاضیں ستوں آپؐ کی نُوری مندِیر کا
ہے خوبِ وقت برکتوں والا سویر کا
2
دولت دلائے مصطفٰےؐ کی چاہیے مجھے
طالب نہیں ہوں لعل و زمرد و ڈھیر کا
3
صورت میں گو کہ ایک ہیں رہتے میں ہیں خُدا
ہوتا بہت ہے فرق زبر اور زیر میں
4
رہتا ہے عمر بھر جو صف آرا خلاف شر
ہوتا ہے کام یہ فقَط مومن دلیر کا
5
بے خوف ڈہ غنیم سے ہے بچ پنچے آزما
پہلو میں مجھے اس کے کوئی دِل ہے شیر کا
6
اللہ اپنے در پہ بَلائیں مجھے حضورؐ
بیٹھا ہوں انتظار عِنایَتِ دیر کا
7
دِل کا جو صاف ہے اے ساؔجِد نہیں غم
اُس نے پڑھا نہیں ہے سبق ہیر پھیر کا