← حرفِ نیاز
حُسنِ نبیؐ کی ہوتی رہی بات رات بھر
وِردِ زُباں تھی صلِّ علیٰ نعت رات بھر
گذری تمام رات درود و سلام میں
کہتے رہے ہم اُن کی مناجات رات بھر
کوئی ہمیں سناتا رہا اُن کے تَذکِرے
ہوتا رہا نزولِ عِنایات رات بھر
جلوۂ رُخِ خیالات کا تھا شمعِ انجمن
اَنوار کی رہی یونہی برسات رات بھر
اس چشمِ اِلتِفات نے بے حد کرم کیا
دیکھی ہے ہم نے لُطف کی بہتات رات بھر
رحمت کی سلسبیل پہ تشنوں کا تھا ہجوم
کچھ اور ہی تھی صورتِ حالات رات بھر
کتنے عظیم لوگ تھے ساجدؔ نِگاہ میں
جن سے رہی ہے اپنی ملاقات رات بھر