ذوقِ جمال
1

یہ روشنی کہاں کی ہے، یہ خُوشبو کدھر کی ہے

یہ بارگاہ پاک مِرے تاجورؐ کی ہے

2

شہرِ نبیؐ کی آب و ہوا، خُوب جاں نَواز

خُوشبو فضا میں آپؐ کی یہ خاکِ در کی ہے

3

یُوں زائرینِ غرق ہیں یاد رسُولؐ میں

فکر اُن کو شام کی ہے یہ نہ کوئی سحر کی ہے

4

عالَم میں ہے بے نَظِیر، کہاں ہے روضہ حضورؐ کا

اِس درجہ بُلندی⚠️ کہاں، ہے کہاں باموردر⚠️ کی ہے

5

اُن سے حضورؐ گذریں تو پرسنتے⚠️ ہیں وہ درود

شہ کے ادب کو طرز یہ سنگ و کُہر⚠️ کی ہے

6

پرتو تمام ہے کفِ پائے رسُولؐ کا

جو روشنی جہاں میں ہے شمسِ و قمر کی ہے

7

بے ساختہ لکھوں میں آپؐ کی ساؔجِد آپؐ کی

سب بات مہربانی، خیرالبشرؐ کی ہے