ذوقِ جمال

دِل کو نویدِ شہرِ نبیؐ کے سفر کی ہے

فکر اب کہاں ، کوئی مجھے زادِ سفر کی ہے

بے اختیار سُوئے مدینہ قدم اٹھیں

جاں کی کوشش تمام یہ اس پاک در کی ہے

سم و زر و گُہر سے نہیں کچھ غرض مجھے

مجھ کو طلب حضورؐ کے لطیف نظر کی ہے

اللہ کے نبیؐ کی ہے تعمیل حکم ذو⚠️

رُدود⚠️ جو جہاں میں شمس و قمر کی ہے

خیر البشرؐ کے نُور شرف کی ہیں تاثیر

عالَم میں جو بھی محبت و حشمت بشر کی ہے

جتنی تجلّیات ہیں بزمِ وجود میں

ساری فضا یہ طیّبہ کے روشن قمر کی ہے

ساجدؔ نبیؐ کو بیچ تحائف درود کے

یہ زِندگی تو جو ہے پھر دو پہر کی ہے