ذوقِ جمال
1

دِل کو نویدِ شہرِ نبیؐ کے سفر کی ہے

فکر اب کہاں ، کوئی مجھے زادِ سفر کی ہے

2

بے اختیار سُوئے مدینہ قدم اٹھیں

جاں کی کوشش تمام یہ اس پاک در کی ہے

3

سم و زر و گُہر سے نہیں کچھ غرض مجھے

مجھ کو طلب حضورؐ کے لطیف نظر کی ہے

4

اللہ کے نبیؐ کی ہے تعمیل حکم ذو⚠️

رُدود⚠️ جو جہاں میں شمس و قمر کی ہے

5

خیر البشرؐ کے نُور شرف کی ہیں تاثیر

عالَم میں جو بھی محبت و حشمت بشر کی ہے

6

جتنی تجلّیات ہیں بزمِ وجود میں

ساری فضا یہ طیّبہ کے روشن قمر کی ہے

7

ساؔجِد نبیؐ کو بیچ تحائف درود کے

یہ زِندگی تو جو ہے پھر دو پہر کی ہے