← ذوقِ جمال
1
کُھل قسم کھائیں شہرِ دیں کی دِل آرائی کی
بات ہر بزم میں ہے آپؐ کی گویائی کی
2
شاہِ لولاک نے نادروں کو عزت بخشی
بے نوازوں کی سدا حوصلہ افزائی کی
3
سنگِ برسائے شریروں نے حبیبِؐ حق پر
آپؐ نے بدلے میں دشمن کی مسیحائی کی
4
جب کہ باطِل نے پکارا اُنہیں ازبہر قتال
آگ سی دھُوپ میں بھی بادیہ پیمائی کی
5
آپؐ کے بندوں کو دولت کی نہیں ہے خواہش
ہوں اُن کے نہیں دِل میں کوئی داری کی
6
آپؐ کا علم و نظر، حق کی عطا ہے ساری
کیا مِثال آپؐ کی دانائی و بینائی کی
7
آپؐ رہتے ہیں غلاموں کے دِلوں میں ساؔجِد
بات کچھ اور ہی ہے آپؐ کی آقائی کی