جانِ جہاں

جب سے ذِکرِ مصطفیٰ سے دِل کی آبادی ہوئی

ہم کو بیکر⚠️ درد و رنج و غم سے آزادی ہوئی

آپ ﷺ کا ہر نام لیوا ہے بہت ہی خُوش نصیب

آپ سے رنج جس نے پھیرا اس کی بربادی ہوئی

اُن کے فیضِ نقشِ پا سے ہوئی باغِ بِہِشت

لاکھ ماضی میں کوئی ویران کی وادی ہوئی

وَصل⚠️ و اُس پر جو ناردا⚠️ الزام ہیں

سُن کے اعدا کی وہ باتیں سخت ناشادی ہوئی

یا نبی ﷺ! اس سِمت بھی ہو دیدۂ لُطف و کرم

آپ کی اُمّت غمِ دُنیا سے فریادی ہوئی

اُسوۂ شاہِ رُسُل ﷺ راستے روشن ہوئے

دین کے فیضان سے گھر گھر میں آبادی ہوئی

شوقِ نعتِ مصطفیٰ ﷺ ساجدؔ رگِ جاں بن گیا

جب سے میری طبع، فکرِ شعر کی عادی ہوئی