نور و سرور
1

بَطحا کی فضا اور ہے رنگ اور سماں اور

یہ شہرِ حَسِیں چھوڑ کے ہم جائیں کہاں اور

2

اِس نامِ مُبارَک کا کریں ذِکر شب و روز

درکار ہے اِس ذِکر کو لب اور زُباں اور

3

جب فیضِ نظر دیتے ہیں ‘ دیتے ہیں جِگر بھی

ہوتی ہے دِل و جاں کو عطا تاب و تواں اور

4

تم پہلی نظر میں ہوئے آئینۂ حیرت

اِس چہرہ سے ہوں گے ابھی اَنوار عَیاں اور

5

پرواز کو پہلے کے پر و بال ہیں بے کار

اب چاہیے جذب اور تمنا بھی جواں اور

6

ہیں خاک نشیں تاجِ شہی قدموں میں اُن کے

پیغمبرِؐ حق کے ہے غلاموں کا نِشاں اور

7

ہر صبح نئی نعت مِرے لب پہ ہے ساؔجِد

تائیدِ خُداوند سے ہے طبع رواں اور