نور و سرور
1

عام ہے دولتِ عِرفاں درِ اَقدس پر

کیف و مَستی کا ہے سامان درِ اَقدس پر

2

کوئی حَسرت ہے نہ حرمان درِ اَقدس پر

شاد و خُرم ہیں دِل و جاں درِ اَقدس پر

3

لاکھ ہو دامَنِ دِل چاک رفو ہوتا ہے

پھر سے سِلتا ہے گریباں درِ اَقدس پر

4

دِل کی بیمار تمنائیں شِفا پاتی ہیں

دردِ حَسرت کا ہے دَرمان درِ اَقدس پر

5

عَجز و اِخلاص سے قُدسی بھی کھڑے رہتے ہیں

بن کے سُلطان کے دربان درِ اَقدس پر

6

اُن سا محبوب نہیں کوئی زمانے بھر میں

جان و ایمان ہیں قُربان درِ اَقدس پر

7

پیش کرتے ہیں وہ نذرانے ثَنا کے ساؔجِد

مست رہتے ہیں ثناخوان درِ اَقدس پر