← نور و سرور
عام ہے دولتِ عِرفاں درِ اَقُدس پر
کیف و مَستی کا ہے سامان درِ اَقُدس پر
کوئی حَسرت ہے نہ حرمان درِ اَقُدس پر
شاد و منجم ہیں دِل و جاں درِ اَقُدس پر
لاکھ ہو دامَن دِل چاک رفو ہوتا ہے
پھر سے سِلتا ہے گریباں درِ اَقُدس پر
دِل کی بیمار تمنائیں شِفا پاتی ہیں
دردِ حَسرت کا ہے دَرماں درِ اَقُدس پر
عجز و اِخلاص سے قُدسی بھی کھڑے رہتے ہیں
بن کے سُلطان کے دربان درِ اَقُدس پر
اُن سا محبوب نہیں کوئی زمانے بھر میں
جاں و ایماں ہیں قُرباں درِ اَقُدس پر
پیش کرتے ہیں وہ نذرانۂ ثَنا کے ساجد
مست رہتے ہیں ثناخواں درِ اَقُدس پر