نور و سرور
1

جب نبّوت کی ظاہر ہوئی روشنی

خاکداں ہو گیا روشنی روشنی

2

ذِکر جب چھِڑ گیا شاہِؐ کونین کا

انجمن میں فزوں ہو گئی روشنی

3

قُربِ حق یُوں کہ تابِ سُخن ہی نہیں

ڈھل گئی جِسم میں ذات کی روشنی

4

اے زمانے کی گردش! ذرا ڈھونڈ لا

ماہِ بَطحا کی وہ چاندنی روشنی

5

جِس پہ اِک بار چشمِ نَوازِش ہوئی

اِس پہ دائم برستی رہی روشنی

6

خَلوتِ قبر میں جلوتِ حشر میں

لوگ دیکھیں گے وہ سرمدی روشنی

7

ہے مُقدّر سکندر کا اُس پہ فِدا

جِس کو ساؔجِد ملی آپؐ کی روشنی