نور و سرور

ہوتی فزوں ہے دِل کی خُوشی اُن کے نام سے

ملتی ہے زِندگی بھی نبیؐ اُن کے نام سے

اُن کے کرم سے آ گئی پھر سے بہارِ گُل

ہے خشک شاخ پھر سے ہری اُن کے نام سے

ایوانِ حق میں خاطِرِ غمگیں کی اِلتجا

جب بھی ہوئی قبول ہوئی اُن کے نام سے

حیلے ہزار لاکھ کیے کچھ نہ بن پڑا

جب بھی بنی ہے بات بنی اُن کے نام سے

جِس کو ملا ہے جو بھی ملا اِس جہاں میں

تھوڑا ہے یا بہت ہے کبھی اُن کے نام سے

کچھ بھی رہے نہ یاد مجھے اُن کی یادیں میں

وابستگی ہو ایسی مِری اُن کے نام سے

ساجد ہے شوقِ شعر فقَط اُن کے شوق میں

منسوب شاعری ہے مِری اُن کے نام سے