نور و سرور
1

ہوتی فزوں ہے دِل کی خُوشی اُن کے نام سے

ملتی ہے زِندگی بھی نئی اُن کے نام سے

2

اُن کے کرم سے آ گئی پھر سے بہارِ گُل

ہے خشک شاخ پھر سے ہری اُن کے نام سے

3

ایوانِ حق میں خاطِرِ غمگیں کی اِلتجا

جب بھی ہوئی قبول ہوئی اُن کے نام سے

4

حیلے ہزار لاکھ کیے کچھ نہ بن پڑا

جب بھی بنی ہے بات بنی اُن کے نام سے

5

جِس کو ملا ہے جو بھی ملا اِس جہان میں

تھوڑا ہے یا بہت ہے سبھی اُن کے نام سے

6

کچھ بھی رہے نہ یاد مجھے اُن کی یاد میں

وابستگی ہو ایسی مِری اُن کے نام سے

7

ساؔجِد ہے شوقِ شعر فقَط اُن کے شوق میں

منسوب شاعری ہے مِری اُن کے نام سے