← حرفِ نیاز
1
تیری دہلیز پہ جُھک جاتا ہے زمانہ خواجہؐ!
تُو ہے اللہ کی رحمت کا خزانہ خواجہؐ!
2
تیری روداد سے محفل پہ نشہ چھا جائے
حال آئے جو سُنیں تیرا فسانہ خواجہؐ!
3
دور و نزدیک ہیں سب تیری نِگاہوں پہ عَیاں
سر پہ سجتا ہے تِرا تاجِ شہانہ خواجہؐ!
4
تیری سیرت کی نہیں ملتی زمانے میں نَظِیر
تیری صورت بھی ہے بے مثل و یگانہ خواجہؐ!
5
اب تو ساؔجِد کو عطا ہو اذنِ حضوری شاہا!
سامنے گاؤں میں تیرا ہی ترانہ خواجہؐ!