حرفِ نیاز
1

تم مِری زندگی ہو‘ مِری جاں ہو

تم مِرا دین ہوـ‘ تم ہی ایماں ہو

2

دِل میں فقط آپ کی رہتی ہے یاد

کوئی ارماں نہ دِل میں پنہاں ہو

3

خُسروِ دیں ہوـ‘ بے شک تم

تمہی لاریب شاہِ شاہاں ہو

4

مستیاں روح میں اُتر آئیں ہیں

ہر گھڑی تازہ شوقِ عِرفاں ہو

5

دِل میں سیلاب ہو تمنّا کا

شوق کا میری جاں میں طوفاں ہو

6

فصلِ گُل کی طرح رہوں تازہ

پُر بہاروں سے میرا داماں ہو

7

ہو مِرے حال پر وہ لُطف و کرم

جو تِرے لُطف کے شایاں ہو

8

حق نے بخشا ہے اختیار تمہیں

تُم شہِؐ بحر و بَر ہو ‘ سُلطاں ہو

9

کتنے بیدار بخت ہو ساؔجِد

شاہِ شاہاں کے تُم ثناخواں ہو