حرفِ نیاز

تم مِری زِندگی مِری جان ہو

تم مِرا دین مِرا ایمان ہو

ہو فقَط دِل میں اِک تمہاری یاد

آرزو ہو نہ کوئی ارماں ہو

خُسروِ خُسرواں ہو بے شک تم

تمہی لاریب شاہِ شاہاں ہو

مستیاں روح میں اُتر آئیں

ہر گھڑی تازہ شوقِ عِرفاں ہو

دِل میں سیلاب ہو تمنا کا

شوق کا میری جاں میں طوفاں ہو

فصلِ گُل کی طرح رہوں تازہ

پُر بہاروں سے میرا داماں ہو

ہو مِرے حال پر وہ لُطف و کرم

جو تمہارے کر کے شایاں ہو

حق نے بخشا ہے اختیار تمہیں

تم شہِ بحر و بر و سُلطاں ہو

کتنے بیدار بخت ہو ساجدؔ

شاہِ شاہاں کے تم ثناخواں ہو