حرفِ نیاز

تیری نظر سے دشت و چَمن زار ہو گیا

تیرا غلام صاحبِ آسرار ہو گیا

تیرے کرم سے ذرہ ہوا رشکِ آفتاب

گنجِ خراب مطلعِ اَنوار ہو گیا

دِیدار کے لیے مِری آنکھیں ترس گئیں

دردِ فراقِ جان کا آزاد ہو گیا ⚠️

قِسِمت کا ہے دھنی جسے وہ در ہوا نصیب ⚠️

خُوشی بخت ہے جو حاشیہ بردار ہو گیا

شہرِ نبیؐ کے راستے ہیں روکشِ جناں ⚠️

صَحرا سحابِ لُطف سے گُلزار ہو گیا

ساجدؔ تھے دِل میں لاکھ سُخن ہائے گُفتنی

شعر و سُخن وسیلۂ اظہار ہو گیا