← حرفِ نیاز
1
معدنِ جود ہے تُو چشمۂ رحمت آقا؟
ہے تِری ذات سراپائے محبت آقا
2
شوقِ تیرا ہے دِل و جاں کی مسرّت آقا
آرزو تیری ہے سرمایۂ رحمت آقا
3
شَرق اور غَرب میں ہے تذکرہ تیرے رُخ کا
ہے ہر اِک دِل پہ تِری چشمِ عِنایَت آقا
4
سبز گُنبد کے لئے رہتا ہوں بے چین سدا
ہے مدینے کا مجھے شوقِ زیارت آقا
5
تُو ہے محبوبِ خُدا یہ کے معلوم نہیں
ہے مسلّم تیری عظمت تیری شوکت آقا
6
حشر کے دِن بھی ہو ساؔجِد کی زُباں محوِ ثَنا
لب پہ اِس کے ہو تیرا نغمۂ مِدحت آقا